حضرت پیر محمد کرم شاہ ٹوپی والی سرکار۔۔۔ پیر کھارا شریف

تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ بھیرہ شریف

بنی نوع انسانی نے اپنی ابتداء سے لے کر اب تک جتنی سرعت اور تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔وہ ایک درخشاں ہے اور جب تک یہ دنیا باقی رہے گی یہ کہانی رقم ہوتی رہے گی۔لیکن اس ترقی کے باوجود آج بھی جہالت کی تاریکی ایک بحر ناپید اکنار موجود ہے۔جو انسان کی مادی ترقی کا منہ چڑھا رہا ہے۔یہ بات درست ہے کہ انسانی فکر کی بلندی کی کوئی حد متعین نہیں۔کبھی تو اس کے فہم و ادراک کی رسائی زہرہ و مریخ سے جا ٹکراتی ہے۔جسے دیکھ کر زمین و آسمان ورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اور کبھی زمین کی اتاہ گہرایوں سے ان خزانوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔کہ خزانے خود بھی انگشت برلزاں رہ جاتے ہیں۔لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ہر دور میں قلبی اطمینان انسان کی ضرورت رہا ہے۔مال ودولت،جاہ وحشمت ،طاقت و اقتدار کے ہوتے ہوئے بھی قلبی اطمینان و سکون کی تلاش جاری رہی ہے۔یہی تلاش انسان کو روحانیت اور اولیاء اللہ کے نزدیک لے جاتی ہے۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کی اللہ رب العزت نے اپنا کلاماور اپنی کتابیں براہ راست عوام الناس تک نہیں پہنچائی بلکہ انکو اپنے انبیاء کے واسطہ سے اپنی مخلوق تک پہنچایا۔خطبہ حجتہ الواداع کے موقع پر جب یہ مقررہ جانفزا نازل ہوا ۔الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی وراضیت لکم االاسلام دینا۔جسکا مفہوم یہ ہے کہ آج کے دن ہم نے انکے لیے آپکے دین کو مکمل کر دیا ۔اور انکے لیے نعمتیں مکمل کیں۔اور دین اسلا م کو بطور دین انکے کے لیے پسند کیا۔
تو یہ ایک طرح کا اعلان تھا کہ آج کے بعد وحی نہیں ہو گی۔اب اللہ کے دین کا پیغام لوگوں تک پہنچانا اللہ کے نبی کے غلاموں کا کام ہے۔جسکو رہتی دنیا تک مخلوق کا پہنچانا ہے۔آقائے دو عالم ﷺ نے اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا۔جو کہ تمام انسانیت کے لیے انسانی حقوق کا چارٹر تھا۔اور اس خطبہ میں بھی یہی حکم تھا کہ جو حاضر ہیں وہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیں جو اس وقت حاضر نہیں۔اس وقت صحابہ کرام کی جماعتیں یہ پیغام لے کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئیں ۔اور جہالت کی تاریکیو ں کو روشنی میں بدلنے کا عمل کا آغاز ہوا۔صحابہ اکرام کے بعد تابعین اور تبع تابعین نے یہ عمل جاری رکھاچراغ سے چراغ جلتا رہا اور اسلام کا نور اطراف عالم میں پھیلتا رہا۔
خطہ ہندوستان میں بت پرستی عروج پر تھی۔اوآبدی کی اکثریت اسلام کی دولت سے محروم تھی۔مختلف اوقات میں مختلف بزرگ اس خطہ میں آتے رہے اور مخلوق خدا کو اسلام کی طرف بلاتے رہے۔حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری،حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری،اور غوث العالمین حضرت غوث بہاوالحق والدین زکریا ملتانی کا اسم گرامی قابل زکر ہے۔

حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی کا فیض جنوبی اور وسطی پنجاب میں خوب پھیلا ۔آپکی اولاد اور انکے خلفاء کی کثیر تعداد اس خطہ میں موجود رہے۔اور اللہ کے پیغام کو انسانیت کی فلاح کے لیے عام کیا۔حضرت پیر کرم شاہ ٹوپی والے بھی آپکے خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔
حضرت پیر کرم شاہ کی ولادت اٹھارویں صدی کے اواخر میں ہوئی۔آپکے والدین ملتا ن سے ہجرت کر کے بھیرہ شریف میں آباد ہوئے تھے۔انکے والد ماجد ایک نیک طبیعت ،پاکباز اور سادہ بزرگ تھے۔آپکی والدہ ماجدہ ایک متقی ،پرہیزگار اور خوف خدا رکھنے والی خاتون تھیں۔وہ ہمیشہ باوضو رہتیں۔ہر وقت قرآن کریم کے زکر سے انکی زبان تر رہتی۔اور اپنے صاحبزادے کو دودھ پلانے سے قبل خاص طور پر وضو کرتیں۔جب تک حضرت پیر کرم شاہ دودھ پیتے رہتے وہ مسلسل درود شریف اور قرآن پاک کی تلاوت کرتیں رہتیں۔مدت رضاعت کے دور ان ہی آپکے کان قرآن پاک کی تلاوت سے اس قدر مانوس ہوئے کہ جونہی زبان کھولی قرآن کی تلاوت سے ہی گفتگو کا آغاز کیا۔قرآن کی کئی سورتیں باقاعدہ تدریس سے قبل ہی انکو یاد ہو چکی تھیں۔
انکے والد ماجد اوائل عمری میں ہی وصال فرما گئے تھے اس لیے وہ زیادہ وقت والدہ کے پاس ہی رہے۔انکی تقوی اور پرہیزگاری ،راست گوئی اور قرآن سے محبت والدہ کی گود سے ہی حاصل ہوئی۔خاندانی روایات کے مطابق حضرت پیر محمد کرم شاہ بچپن سے ہی بہت کم گو،دھیما لہجہ رکھنے والے انسان تھے۔اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلتے لیکن کبھی بھی وقار سے گری ہوئی گفتگو نہیں کی۔بچپن سے ہی مسجد سے محبت پیدا ہو گئی۔جو نہی آذان ہوتی سب کچھ چھوڑ کر مسجد جاتے۔انہوں نے ہمیشہ گالی گلوچ سے اجتناب کیا۔یہی وجہ ہے کہ بہت کم عمر میں بھی اپنے ہم عصر بچوں سے ممتاز اور جدا نظر آتے تھے۔
آپ نے بھیرہ شریف میں قرآن کریم حفظ کیا۔حفظ کے دوران اپنے اساتذہ کرام سے قرآن کریم کی مختلف آیات کا مفہوم جاننے کی خوب کوشش کرتے۔آپ قرآن کے محظ حافظ نہ تھے بلکہ اس کے مفاہیم سے بھی آگاہ تھے۔قرآن کریم کی تلاوت اور حفظ نے انکی شخصیت کے اندر ایک خاص قسم کا گہراو پیدا کر دیا تھا۔انہوں نے بہت کم عرصہ میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا۔اورتراویح میں قرآن کریم سنانے کا آغاز کیا۔آپ ایک خوش الحان حافظ قرآن تھے۔جس مسجد میں آپ قران کریم کی تلاوت کر رہے ہوتے۔عوام وہاں پر کثیر تعداد میں جمع ہو جاتے۔آپکی تلاوت پر اپکے اساتذہ اور ساتھی بھی فخر کرتے۔قرآن کریم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے۔اور اپنے چچا پیر جمال شاہ نوری کے پاس علوم دینیہ کی تعلیم حاصل کی اور مروجہ کتب سبقاََ پڑھی۔اس زمانے کے رواج کے مطابق ہر مضمون کے الگ الگ اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ آپکا طبعی میلان روحانیت کی طرف تھا۔ذیادہ تر وقت اللہ کے زکر میں گزارا کرتے۔کتب کے مطالعہ سے فارغ ہوتے تو زکر الہی میں مشغو ل ہو جاتے۔اپنے حجرے میں یا مسجد کے ایک کونے میں گھنٹوں بیٹھ کر زکر کرتے۔یا پھر توحید الہی میں غور و فکر کرتے۔بچپن سے ہی اللہ کے زکر نے اپکے ظاہروباطن کو منور کر دیا۔اور جوانی کے عالم میں بھی اپنے چچا جو انکے استاد تھے انکے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت بھی عطا فرما دی۔
پیر جمال شاہ نوری نے اپنے مرید کی مزید تربیت او ر تبلیغ کے لیے دشوار گزار پہاڑی سلسلہ جسکو ونہار کہا جاتا ہے وہاں روانہ کیا۔ان سنگلاخ پہاڑوں میں موسم کی سختیوں سے بے نیاز ہو کر زکر الہی میں مقبول ہو گئے۔انہی پہاڑوں پر آپ نے چلہ گاہیں بنوایں جہاں پر کھانے پینے سے بے نیاز ہو کر صرف اللہ کے زکر سے شادکام ہوتے رہے۔اہستہ آہستہ آپکی شخصیت کی خوشبو پھیل گئی۔اور علاقہ کے لوگ آپکی خدمت میں کھانے پینے کی اشیاء لے کر آتے لیکن آپکی طبعیت کی رغبت ان چیزوں کی طرف نہیں تھی اس لیے جو کچھ آتا وہ تقسیم فرما دیتے۔آپکی سخاوت اور دریا دلی کے چرچے ہر طرف پھیل گئے۔اور لوگ جوق در جوق آپکی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔روایات کے مطابق لوگوں کی اکثریت آپکے چہرہ مبارک کو دیکھ کر ہی مسلمان ہوئی۔جو غیر مسلم ایک بار آپکو دیکھتا اسی وقت کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو جاتا۔طویل عرصہ ونہارکی پہاڑوں پر گزارنے کے بعد جب عام لوگوں کی آمدورفت آپکے پاس ذیادہ ہو گئی تو انہوں نے دیگر علاقوں کی طرف سفر شروع کیا۔
موسم گرما میں آپ بالائی پہاڑوں پر بسلسلہ تبلیغ کے لیے تشریف لے جاتے۔اس علاقہ کو آج کل پیر میدان کہا جاتا ہے۔جبکہ موسم سرما میں زیریں پہاڑی علاقوں کی طرف تشریف لے جاتے۔آپ کا ذیادہ قیام موجودہ پیر کھارا شریف کے جنوبی پہاڑ پر ہوتا جہاں آج بھی آپکی چلہ گاہیں موجود ہیں۔اس دوران آپ نے سنت نکاح بھی ادا فرمائی۔خاندانی روایت کے مطابق آپ کی شادی خاندان میں ہی ایک نیک بخت خاتون سے ہوئی۔جس کے بطن سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔بیٹے کا نام ولایت شاہ تھا جنکا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا۔حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ کئی کئی ماہ پہاڑوں پر قیام فرماتے ساری ساری رات اللہ کے حضور سجدہ ریز رہتے۔آپ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کوئی روزہ ترک نہ کیا۔سوائے ممنوع آیام کے ساری زندگی پانی سے روزہ افطار کیا۔صرف اتنی روٹی کھاتے تھے کہ جسم و جاں کا سلسلہ برقرار رہے۔آپ اتنا طویل قیام فرماتے کہ پاوں سوجن کا شکار ہو جاتے لیکن زکر الہی کی لذت کسی تکلیف کا احساس نہ ہونے دیتی۔آپ ساری زندگی دنیاوی بکھیڑوں سے دور رہے لیکن جو بھی آپکی خدمت میں حاضر ہوتا اسکو محبت کا ایسا جام پیلاتے کہ وہ آپکا ہی ہو کر رہ جاتا۔
اللہ پاک نے آپکی زبان ،کلام اور دم میں شفاء کا خزانہ رکھ ددیا تھا جو بھی تکلیف میں مبتلا شخص آتا اسکو دم فرماتے اور اللہ کریم اسکو شفاء عطا فرما دیتا۔آپ ایک مقبول بارگاہ شخصیت تھے۔اللہ پاک کی بارگاہ میں جب بھی دست سوال دراز کرتے اللہ تعالی آپکو کبھی خالی نہ لوٹاتا ۔آپ عبادت کی لذت میں دنیا سے دور جا کر ایک گم نام پہاڑی کی چوٹی پر قیام پزیر ہوتے ۔لیکن مخلوق خدا اپکو تلاش کرتے کرتے جہاں آپ تشریف فرما ہوتے پہنچ جاتی۔حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ ٹوپی والی سرکار کی دعاوں سے بے اولادوں کو اولاد نصیب ہوئی،بے روزگاروں کو رزق ملا۔بیمارو ں کو اللہ کریم شفاء عطا فرماتا۔
آپ نے اپنی عمر مبارک کا آخری حصہ پہاڑ کے دامن میں بسر کیا۔اس وقت جس جگہ آپ کا مزار ہے اسی جگہ آپکا قیام رہا۔آپ کی عمر مبارک کے آخری دس سال ایسی جگہ گزارے اور مخلوق خدا کے لیے دستیاب رہے۔

حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ ٹوپی والی سرکار کی کرامات بے شمار ہیں۔کئی ثقہ اور غیر ثقہ روایات خاندان میں بھی موجود ہیں۔جبکہ علاقہ میں بھی اکثر تعداد میں سنی جاتی ہیں۔آپکی سب سے بڑی کرامت تو یہ ہے کہ اپ نے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں زکر الہی کا چراغ روشن کیا۔اپ کا چہرہ اقدس بھی ایک کرامت تھا۔جو ایک دفعہ اپ کے چہرہ مبارک پر نظر ڈالتا وہ کلمہ پڑھے بغیر نہ رہ سکتا ۔اپ کی گفتگو بھی کرامت تھی کہ اپکی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ دل میں جا اترتا ۔آپ کی نگاہ ناز بھی کرامت تھی۔کہ گمراہ دل پر نظر ڈالتے تو توحید کے نور سے جگمگا اٹھتا ۔آپکی عبادت بھی کرامت تھی ۔جسکی وجہ سے اللہ کریم کے قرب کی دولت سے مالا مال ہوئے۔لیکن آپکی ایک کرامت ہے جس سے ہزاروں لوگ اض بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔وہ چشمہ شفاء ہے ۔گردے کی پتھری کے لیے اس چشمے کا پانی ایک آزمودہ نسخہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔میرے ذاتی علم میں یہ بات موجود ہے کہ گردے کے درد میں مبتلا شخص پیر کھارا شریف کی طرف منہ کر کے سلام کرتا ہے اور اللہ سے شفاء مانگتا ہے تو اللہ کریم فوری طور پر شفاء عطا فرماتے ہیں میری معلومات میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو پیر کھارا شریف کا پانی پی کر گردے کی پتھری سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔
اولا امجاد
حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ سرکار کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام پیر ولایت شاہ تھا جو کہ بچپن میں ہی وصال فرما گئے تھے جبکہ ایک صاحبزادی ہیں ۔آپ نے اپنی اکلوتی صاحبزادی کا عقد اپنے بتھیجے پیر محمد صدیق شاہ سے فرمایا۔جو کہ سجادہ نشین اول مقرر ہوئے ۔اور پیر محمد صدیق شاہ نے ہی دربار شریف کی تعمیر اول کی ۔مہمان خانے قیام کیے ۔مسجد ،مدرسہ تعمیر کیا ۔اس وقت بھی دربار شریف کے متولی اور سجادہ نشین حضرت پیر صدیق شاہ کی اولاد ہیں۔اس وقت دربار عالیہحضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ ٹوپی والے کے موجود سجادہ نشین حضرت پیر محمد شعیب شاہ مدظلہ العالی ہیں۔وہ ایک حلیم الطبع ،روشن خیال ،پاکباز اور عبادت گزار بزرگ ہیں۔نمودونمائش سے کوسو ں دور رہ کر مخلوق خدا کی رہنمائی میں مصروف ہیں۔اپنی عبادت گزاری کی بدولت علاقہ بھر میں مقبول ہیں۔بغیر کسی لالچ کے دربار شریف پر حاضر ہونے والے زائرین کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔انہوں نے دربار شریف پر دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے منسلک ایک درگاہ بھی قائم کی ہے ۔جہاں پر سینکڑو ں طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔
حضرت پیر شعیب صاحب کے برادر اصغر پیرزادہ طارق محمود شاہ صاحب بھی دربار کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔پیر کھارا شریف میں موجودہ تعمیرات اور ترقی انہی کے حسن ذوق کی بدولت ہے۔پیر زادہ طارق محمود شاہ نے ساری زندگی بیوروکریسی کے اعلی منصب پر گزاری اور اعلی ترین مناصب پر فائز رہنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے لیکن انکی طبعیت میں پرانے وقت کت بزرگوں کی عاجزی اور انکساری موجود ہے۔دربار شریف کو روحانی تربیت گاہ بنانے میں انکااہم کردار ہے۔
اس عظیم نام کی نسبت سے بھیرہ شریف میں حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے فرزند کا نام پیر محمد کرم شاہ رکھا جو بعد میں ضیاء الامت کے لقب سے ملقب ہوئے۔اور دنیا بھر میں علم و عرفان کا یک استعارہ بن کر سامنے آئے۔

حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال 24شعبان1268,جون1852,23 کو ہوا ۔اور اسی جگہ پر انکی تدفین کی گئی۔پیر کھارا شریف میں ہر سال چیت میں آپکا عرس مبارک ہوتا ہے۔اور ملک بھر سے زائرین شرکت کرتے ہیں۔اور اپنی روحانیت کا سامان کرتے ہیں۔ہر سال لوکھوں لوگ چیت کے مہینے میں مزار پر حاضری دیتے ہیں۔پنجاب میں کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا جو اپکے فیض سے فیض یاب نہ ہوا ہو۔یہاں پر ایک دلچسپ حقیقیت کا اظہار ضروری خیال کرتا ہوں کہ بعض ایسے لوگ جو مزاروں پر جانا مناسب نہیں سمجھتے اور اس عقیدہ کے ہم مسلک نہیں وہ بھی نہ صرف پیر کھارا شریف کے فیض کے خود قائل ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی وہاں جانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ہمارے شہر بھیرہ کی ایک نامور دینی شخصیت مولانا عبدالرشید مرحوم جو کہ مزارت پر جانے کے قائل نہ تھے اور بھی گردے کے مریضوں کو پیر کھارا شریف جانے کی ترغیب دیتے۔اس مزار کے انتظام و انتصرام کو جس طرح یہ خاندان نبھا رہا ہے ۔وہ اپنی مثال آپ ہے ۔حکومتی اوقاف نے کئی دفعہ اس مزار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن انکو بتایا گیا کہ جو مزار قبل ازیں اپکی زیر نگرانی ہیں انکی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے ۔وہاں پر نہ دینی تعلیم کا بندوبست ہے نہ صاحب مزار کا تعارف ۔ان حالات میں ہم کس طرح یہ مزار اپکے حوالے کر دیں ۔جبکہ اوقاف کے محکمہ میں بہت سے ایسے افسران ہیں جو کسی اور عقیدہ کے حامل ہیں۔اللہ کے اس نیک بندے حضرت پیر کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ ٹوپی والے سرکار کے مہمانوں کی خدمت میں اس دربار کے سجادہ نشین کے ساتھ ساتھ جناب پیر لال شاہ صاحب،پیر حسنات شاہ صاحب،حضرت علامہ غلام بہاالحق شاہ اور جناب پھل پیر شاہ قابل زکر ہیں۔
جیسا کہ پہلے زکر ہوا ہے کہ آپکے مزار کی تعمیر اول انکے بتیھجے پیر صدیق شاہ نے کی ۔جسکی تعمیر ثانی 1996 میں پیرزادہ طارق محمود شاہ کی نگرانی میں مکمل ہوئی ۔یہ روضہ مبارک تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.