داتا دربار ہونے والا خود کش حملہ اہل سنت اوراہل تصوف کے جذبات پر حملہ ہے ،

48گھنٹوں میں رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے شہداءکے لئے ایک کروڑ جبکہ سویلین شہداءکے 50لاکھ اور تمام زخمیوں کے لئے 25لاکھ دےنے کا فوری طور پر اعلان کیا جائے

خودکش حملہ آور کے حملہ سے شہداءنے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے داتا دربار میں موجود سینکڑوں انسانوں کی جانوں کو بچایا ہے ۔مزارات قیامت تک آباد رہیں گے ،اور یہاں سے امن کی آواز بلند ہوتی رہے گی ۔حالیہ دہشت گردی ،فرقہ وارےت ،تعصب ،خوف اورعدم برداشت سے معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔حالیہ حملہ اداروں کی غیرذمہ داری کی وجہ سے ہوا ہے ،جب 3اپریل کو اس طرح کے خوف ناک حملہ سے آگاہ کر دیا گیا تھا تو پھر اس حملہ کو روکا کیوں نہیں گیا ۔نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔دہشت گردی ایک ناسورہے جس کی جڑوں کا خاتمہ ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان اورکوآرڈینیٹر متحدہ علماءبورڈ حکومت پنجاب پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی نے ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ مولانا راغب حسین نعیمی ،پیر سید نبیل الرحمن شاہ ،محمد نوازکھرل ،مفتی قیصر شہزاد نعیمی ،سیدتنویر حسین ،ممفتی لیاقت علی صدیقی ،مفتی عاشق حسین ،مفتی محمد عارف ،مولانا محمد علی نقشبندی ،مولانا عبداللہ ثاقب ،مولانا شکیل احمد ،ڈاکٹر عمران انور نظامی ،مفتی محمد اسماعیل ،مفتی اسد عباس،مفتی شفقت یوسفی ،قاری احمد نواز،مفتی مسعود الرحمن اور دیگر علماءومشائخ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج جمعرات متحدہ علماءبورڈ حکومت پنجاب کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔جس میں تمام مسالک کے جید علماءومشائخ سے اس سانحہ کے خلاف آواز بلند کی جائے گی ۔اہل سنت پرامن ہیں اور رہیں گے ہمارا پرامن رہنا بعض قوتوں کو پسند نہیںہے ۔پاکستان ہمارے اکابر نے بنایا تھا ۔اس کی حفاظت کے لےے جان کے نذرانے پیش کرتے رہیں گے ۔تمام مزارات اور مشائخ کی سیکورٹی کا بندوبست حکومت ہنگامی بنیادوں پر کرے ۔9/11سے قبل بھی ہمارے مشائخ نے جہاد افغانستان کی مخالفت کی تھی ہمارے اکابر نے کہا تھا کہ امریکی جہاد جہاد نہیں ہے فساد ہے ۔دنیا کو امن کا پیغام دےنے کے لئے اہل تصوف کے راستوں کو روکا جارہا ہے ۔امن کے داعی امن کا پرچم تھامے رہیں گے اور دشمن کی چالوں میں نہیں آئیں ۔شہداءپولیس کے ہوں یا پھر سویلین وہ پاکستانی ہیں ۔پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.