معراج انبیاء کرام علیھم السلام

تحریر:محمد جاوید اقبال کھارا

ہمارا عقیدہ ہے کہ الوہیت میں یکتا ذات اللہ واحدہ لا شریک لہ ہے اور عبودیت میں فرد ذات با برکات سید کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور آپ سے بعد تمام انبیاء ہیں اور مراتب انبیاء کرام درجہ بدرجہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے ۔
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ مِّنْہُم مَّن کَلَّمَ اللّہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ۔البقرہ ۔پ3آیت253۔
”یہ سب رسول ‘ہم نے فضیلت دی ہے (ان میں سے ) بعض کو بعض پر ان میں سے کسی سے کلام فرمایا اللہ نے اور بلند کیئے ان میں سے بعض کے درجے”۔
مفسر قرآن مفکر اسلام ،نباض عصر حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اپنی شہرہ آفاق تفسیر ضیاء القرآن میں رقمطراز ہیں کہ
”اللہ تعالیٰ کے سب رسول نفس رسالت میں اور جملہ انبیاء نفس نبوت میں برابر ہیں لیکن فضائل و کمالات ،مراتب و مقامات ،معجزات و کرامات میں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں کسی کو ایک کمال سے متصف فرمایا کسی کو دوسرے شرف سے مشرف فرمایا لیکن ذات پاک مصطفی صلی اللہ علیہ ہے جو مظہر اتم ہے تمام کمالات جلالیہ اور جمالیہ کے جو مراتب و کمالات دیگر انبیاء و رسل کو ایک ایک کرکے عنایت کئے گئے تھے وہ سب اپنی اعلیٰ ترین اور اکمل ترین صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گئے اور ان کے علاوہ ایسے بے شمار مراتب اور ان گنت معجزات بخشے جن میں کوئی نبی کوئی رسول ہمسری تو کیا محض شرکت کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتا حضور ﷺ کو ساری نوعِ انسانی بلکہ ساری کائنات و زمینی اور آسمانی کیلئے نبی بنایا گیا محدود وقت کیلئے نہیں بلکہ ابد تک کیلئے ۔قرآن جیسی کتاب ارزانی فرمائی،رحمۃللعالمین کے خطاب سے نوازا ۔ختم نبوت و رسالت کا تاج زیب سر فرمایا،کسی کو صفی،کسی کو خلیل ،کسی کو کلیم اور کسی کو روح فرمایا لیکن کائنات کے اس آخری سہارے کو صفوت ،خلعت،کلام وغیرہ کے علاوہ محبوبیت کی خلعت فاخرہ بخشی ۔مفسرین کرام نے تصریح کی ہے کہ "رفع بعضھم درجتسے حضور کریم ﷺ مراد ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی نبی کو دوسرے نبی پر یوں فضیلت نہ دو کہ اس سے دوسرے نبی کی تحقیر ہو ۔
قال النحاس بعضھم ہنا علی قول ابن عباس و الشعبی و مجاھد محمد صلی اللہ علیہ وسلم(قرطبی وغیرہ)(ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 175)
ٰیہ ساری تمہید اس لئے ذکر کی ہے جب ہم حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بالخصوص معجزہ معراج کو بیان کرتے ہیں تو مشترقین بے جاتنقید اور اعتراضات کرتے ہیں حالانکہ ان کو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نبوت میں رسالت میں ،شریعت میں ،فضیلت میں ،تربیت میں ،محبوبیت میں غرضیکہ دینی و دنیوی لحاظ سے زندگی کے ہر علمی و عملی پہلو میں تمام انبیاء علیھم السلام سے مابہ الامتیاز شان تفوق رکھتے ہوں انہیں شایان شان معراج بھی وہی ہو سکتی ہے جسکی نوعیت تمام متقد مین انبیاء علیھم السلام سے ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہو ۔
ذیل میں ہم بعض انبیاء کرام علیھم السلام کے معراجوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن کے بیان سے حضور نبی رحمت ﷺ کی معراج کی شان ظاہر ہوتی ہے ۔معراج عروج سے ہے انبیاء کرام کے مراتب کو بلندی نصیب ہوتی رہی ہے اس وقت وہ ایسے مقام رفیع پر پہنچتے ہیں جہاں انسان کا طائر تخیل پرواز نہیں کر سکتا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا قرآن مجیدمیں جو مقام عروج مذکور ہے سورۃ البقرہ میں ۔
وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَءِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی آخرہ
تمام مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں اللہ کریم نے جناب آدم علیہ السلام کی عظمت و شان بیان کی ہے ان کو نعمتیں عطا فرمائیں زمین پر اپنی خلافت و نیابت عطا فرمائی ۔روحانی و علمی کمالات عطا فرمائے اور فرشتوں سے سجدہ کروا کر آپ کو تعظیم و تکریم سے سرفراز فرمایا۔باغ بہشت میں قیام کی اجازت مرحمت فرمائی۔اور پھر زمین پر اترنے کے بعد آپکی توبہ کو شرف قبولیت بخشا ۔
حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری تفسیر ضیاء القرآن میں بڑی خوبصورتی و جامعیت سے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چھوٹی بڑی تمام اشیاء کے سب نام سکھادیئے اور خلافت کے منصب کا تقاضا بھی یہی تھا کہ انہیں تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا جاتا۔جب آدم علیہ السلام کے علم کی یہ کیفیت ہے تو سید بنی آدم خلیفۃ اللہ فی العالم محمد مصطفی ﷺ کے علوم و معارف کا کیا کہنا۔ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 47
معراج حضرت آدم علیہ السلام کا پیغام
حضرت آدم علیہ السلام کو جو یہ معراج نصیب ہوئی اس کا پیغام حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری تفسیر ضیاء القرآن میں بیان کرتے ہیں ہوئے رقمطراز ہیں ۔
”یہ عزت و سرفرازی جو آدم علیہ السلام کو نصیب ہوئی اس کا سب علم تکوینی یعنی اشیاء اور انکی خاصیات اور ان کے اثرات کا علم ہے وہ امت جسکی آسمانی کتاب میں آدم کی برتری اور فضیلت کا راز یہ بتایا گیا ہو کہ وہ کائنات کے اسرارِ سربستہ سے آگاہ کیا گیا تھا وہ امت اگر علم سے محروم ہو ،سائنس اور حکمت سے ناآشنا ہو تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہے اس کے دین نے تو اس کے سمند شوق کو مہمیز لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔دنیا میں جتنے مذہبی صحائف موجود ہیں ۔کسی میں اتنی وضاحت اور اتنے اہتمام سے مقام آدم کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے ۔اب ہم اپنی شورا بختی کے علاوہ کسی کو ملامت کریں کہ ہماری غالب اکثریت تو ابجد خواں بھی نہیں ۔اور جو علم سے آشنا ہیں وہ علم کو تن پروری کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔وہ دن کب طلوع ہو گا جب مومن اپنے مقام کو پہچانے گا ۔پھر کب اس آسودۂ خواب راحت کو رومی کا سوز اور رازی کا پیچ و تاب نصیب ہوگا ۔ہمارے مطالعے کی میز پر تو تہہ در تہہ گرد جمی ہوئی ہے اور ہمارے عشرت کدوں میں نورو نکہت کا سیلاب امڈا چلا آرہا ہے ۔ہماری رسد گاہیں اب ان تھک تیز نگاہوں سے محروم ہیں جو ستاروں کی معمولی سی جنبش کا تعاقب کیا کرتی تھیں۔ہماری تجربہ گاہیں اب ایسے علماء کو ترس گئی ہیں جو دنیا کی لذات سے کنارہ کش ہو کر نشتر تحقیق سے کائنات کی ہر چیز کا دل چیرا کرتے اور ان میں پوشیدہ اثرات اور قوتوں کو کھوج لگایا کرتے ۔اور اس سے بھی بڑھ کر قابل حیرت بلکہ لائق نفرت وہ آواز ہے جو بعض حلقوں سے توحید کے نام پر اٹھائی جا رہی ہے کہ نبی کو تشریعی علم دیا جاتا ہے تکوینی علم سے اسے کیا سروکار ۔اور اس طرح اس ذات اقدس ﷺ کے علم کی بیکراں وسعتوں کو تنگ سے تنگ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا سارا زور صرف کیا جا رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ رحم فرماوے ہمارے حال زار پر اور بخشے ہماری کوتاہ اندیشیوں کو انہ ھو التواب الرحیم۔(ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 49)
کشف المحجوب میں حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا صاحب حضرت آدم علیہ السلام کی ملائکہ پر فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ فضیلت اس کیلئے مختص مانی جائے گئی جسے حق تعالٰی جل و شان افضل فرمائے اور مخلوق میں سے برگزیدہ کرے اور ملائکہ پر افضلیت انبیاء کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں ۔
پھر آگے چل کر بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام جو کئی ہزار سال سے انتظارِ خلعت میں عبادت کر رہا تھا وہ صرف حاشیہ برداری جناب مصطفی ﷺ چاہتا تھا تاکہ لیلۃ المعراج میں حضور ﷺکے براق کی باگ تھامے (کشف المحجوب صفحہ 417،مکتبہ شمس و قمر لاہور سال اشاعت فروری 2012ء)
حضرت ادریس علیہ السلام کی معراج:۔
قرآن مجید میں اللہ کریم نے حضرت ادریس علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کی رفعت بیان فرمائی اور یہ حضرت ادریس علیہ السلام کا معراج ہے ۔وَاذْکُرْ فِیْ الْکِتَابِ إِدْرِیْسَ إِنَّہُ کَانَ صِدِّیْقاً نَّبِیّاً۔وَرَفَعْنَاہُ مَکَاناً عَلِیّا( پ16سورہ مریم آیت 56,57)
"اور ذکر فرمائیے کتاب میں ادریس (علیہ السلام ) کا بے شک وہ بڑے راستباز تھے اور نبی تھے اور ہم نے بلند کیا تھا انہیں بڑے اونچے مقام تک ۔
تفسیر ضیاء القرآن میں ہے ”اس سے مراد ان کے مرتبے کی بلندی اور رفعت شان ہے ”(ضیاء القرآن جلد 3صفحہ 89)
تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پتی بیان فرماتے ہیں
بلندمقام سے مراد بعض علماء کے نزدیک نبوت کے ساتھ بلند درجہ عطا فرمانا اور اللہ کی بارگاہ میں قرب ہے بعض فرماتے ہیں اس سے مراد جنت ہے ۔بعض فرماتے ہیں اس سے مراد چھٹا آسمان ہے حضرت انس بن مالک بن صعصعہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضرت محمد کریم صلی اللہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے معراج کی رات حضرت ادریس علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر دیکھا ۔(معالم التنزیل جلد 3،صفحہ625،دارلفکر بیروت بحوالہ تفسیر مظہری )
تفسیر روح المعانی میں علامہ سید محمود آلوسی علیہ الرحمہ و دیگر مفسرین کرم نے بھی حضرت ادریس علیہ السلام کے اس معراج کو بیان کیا ہے اس میں بھی ہمارے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان معراج کی بلندی یہ ہے کہ آپ ساتوں آسمانوں سے آگے مقام اوادنی پر فائز ہوئے یہاں تک کہ آپ نے حق تعالیٰ کے ساتھ شرف ہم کلامی کی سعادت حاصل کی۔اور خود ذات خداوندی کے دیدار سے مشرف ہوئے ۔
ضیاء نیر نے خوب کہا۔
؂طور ہے کعبہ ہے یا عرش معلی کیا ہے
راز کھلتا نہیں یہ گنبد خضریٰ کیا ہے
شب معراج میں جبریل بھی حیراں تھے ضیاء
کون ہے قصر د نا یں پس پردہ کیا ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معراج :۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْن(پ7،الانعام،آیت 75)
اور اسی طرح ہم نے دکھا دی ابراہیم کو ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی تاکہ ہو جائیں کامل یقین کرنے والوں میں ۔
ضیاء القرآن میں حضرت ضیاء الامت رقمطراز ہیں کہ امام رازی فرماتے ہیں کہ جلال خداوندی کے انوار و تجلیات ہر لمحہ ضو فشاں ہیں لیکن انسانی روح کسی نہ کسی حجاب کے باعث ان کے مشاہدہ سے محروم رہتی ہے جیسے جیسے حجاب ہٹتا اور سرکتا جاتا ہے ویسے ہی انوار کا مشاہدہ شروع ہو جاتا ہے حضرت خلیل نے جب تمام حجابات کو تار تار کر دیا اور انوار الہی کے مشاہدہ میں کوئی آڑ باقی نہ رہی تو زمین و آسمان کی بے کراں وسعتوں میں قدرت خداوی کے جو اسرار تھے سب ظاہر ہوگئے اور نگاہِ ابراہیمی پر ہر چیز منکشف کر دی گئی ۔فلما زال ذلک الحجاب لاجرم تجلی لہ ملکوت السموت بالتمام (تفسیر کبیر جلد 7جز13صفحہ 44)
نری بمعنی ارینا(قرطبی) ہم نے دکھا دی یہ رویت بصر سے تھی یا بصیرت سے ؟ یعنی صرف آنکھوں نے دیکھا تھا اور عرش سے تحت الثر اء تک ہر چیز نظر آنے لگی تھی اور بعض نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کی تمام اشیاء کی حقیقت پر آگاہی بخش دی گئی تھی تاکہ کائنات کی ان مختلف چیزوں پر مطلع ہو کر وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت علم قدرت اور حکمت کے بارے میں عین الیقین کے مرتبہ علیا پر فائز ہو جائیں ۔
امام رازی لکھتے ہیں کہ اگرچہ عام انسان بھی کائنات کے بعض اسرار پر آگاہ ہوتے ہیں لیکن اس علم خلق کی ہر چیز میں خواہ وہ جنس ہو یا نوع صنف ہو یا شخص حکمت الہی کے جو آثار پائے جاتے ہیں ان سے جس طرح اکابر انبیاء آگاہ ہوتے ہیں وہ آگاہی کسی اور کو نصیب نہیں ہوتی (کبیر)
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حقائق اشیاء کاا تنا علم ارزانی فرمادیا گیا تھا توتعجب ہے ان لوگوں کی کم نگاہی پر جو نبی الانبیاء کے متعلق یہ خیال کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو یہ خبر بھی نہ تھی کہ نہ کھجور سے مادہ کھجور کس طرح باردار ہوتی ہے(ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 573)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معراج :۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
فلما جآء موسیٰ المقیقا تنا و کلمہ ربہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الی آخرہ(الاعراف آیت 143)
تفسیر ضیاء القرآن میں ہے ۔
جب چالیس روزہ مدت پوری ہو گئی اور ذکر الہیٰ سے قلب و روح میں کلام الہی سننے کی توانانی پید اہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے گفتگو فرمائی جب کلام کی کی لذت رگ و پے میں سرایت کر گئی تو دل میں متکلم کے شوقِ دید کا طوفان امڈ آیا اور عرض کی کہ اے سراپا دلبری و رعنائی ! چشم شوق اب ان حجابوں کو برداشت نہیں کرسکتی ازراہِ لطف و کرم انہیں الٹ دے اور مجھے اپنا آپ دکھا
علامہ بیضاوی نے ارنی کے دو معنی بیان کئے ہیں
1۔ارنی نفسک بان تمکنی من رویتک یعنی مجھے اپنے دیکھنے کی قدرت عطا فرما تاکہ میں تجھے دیکھ سکوں ۔
2۔او تجلی لی فانظر الیک ۔یعنی خود حجاباتِ عظمت کو سرکا تاکہ چشم شوق لطفِ دید حاصل کر سکے ۔
یہ نہیں فرمایا لن اری : میں دیکھا نہیں جا سکتا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ رویت باری ممتنع ہے جیسے معتزلہ کا مذہب ہے بلکہ فرمایا لن ترانی اے موسیٰ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے مجھے دیکھنے کی تاب فقط اس نگا میں ہے جو مازاغ کے سرمد سے سرمگین ہے اس سے معلوم ہوا کہ دیدار الہیٰ ناممکن نہیں اور یہی اہل السنۃ و الجماعۃ کا مسلک ہے عند اہل السنۃ و الجماعۃ الرویۃ جائزہ (قرطبی ، ضیاء القرآن جلد دوم،صفحہ 80 )
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے معراج موسیٰ علیہ السلام پر حضور نبی کریم ﷺ کے معراج مبارک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کیا خوب کہا
؂یہی سماں تھا کہ پیک رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے
تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے
معراج مصطفی کریم ﷺ:۔
حضور نبی کریم ﷺ کا معراج قاب قوسین اوادنی تک تھا حضرت جلال احدیت جل و علا نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عروج کی بدولت آسمانوں کے طبقات پر مشرف فرمایا اور عزت افزائی سے تمام انبیاء پر فائق و ممتا ز کیا ۔
حضور علیہ الصلوۃ السلام نے شب معراج جو کچھ دیکھا ظاہری آنکھ سے دیکھا یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ،تابعین ،آئمہ مجتہدین ،محدثین ،مفسرین اور صوفیائے کرام کا یہی مذہب ہے کہ معراج جسم اطہر و الطف کے ساتھ ہوا تھا ۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے اس مقام پر کیا خوب لکھا ۔
محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاضل خطوط و اصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.