اعتدال ،توازن،امت وسطیٰ ،میانہ روی قرآن و سنت کی روشنی میں

پروفیسر محمد جاوید کھارا

اسلام دین فطرت ہے ۔اور یہ دین اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے اس کی تعلیمات جامع اور ہمہ گیر ہیں۔اور سب سے بڑھ کر اس کی تعلیمات میں اعتدال و توازن موجود ہے اسلام یہی چاہتا ہے کہ امت مسلمہ کی زندگی ،فکر اور رویہ اس تکوینی توازن کا پر تو ہو۔اور اس طرح یہ امت دوسری تمام امتوں سے ممتاز ہو ۔امت مسلمہ کی اس نمایاں خصوصیت کا اشارہ ہمیں قرآن مجید کی اس آیت میں ملتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مخاطب کرتے ہوئے اشارہ فرمایا
وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً(بقرہ ۱۴۳)
ترجمہ:اور اسی طرح ہم نے بنا دیا تمہیں اے مسلمانوں ) بہترین امت تاکہ تم گواہ بنو لوگوں پر اور (ہمارا)رسول تم پر گواہ ہو ۔
مفسر قرآن، مفکر اسلام،نباض عصر حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تفیسر ضیاء القرآن میں اسی آیت کریمہ کے تحت رقمطراز ہیں
یعنی جیسے ہم نے قبلہ کے معاملہ میں تمہیں راہ راست اختیار کرنے کی توفیق بخشی۔اسی طرح ہر معاملہ میں تمہیں امت وسط بنایا ۔وسط کا لفظ قابل غور ہے اس کا معنی ہے درمیان ۔ہر چیز کا درمیانی حصہ ہی اس کا عمدہ ترین حصہ ہوتا ہے ۔انسان کی زندگی کا درمیانی عرصہ ”عہد شباب”اس کی زندگی کا بہترین وقت ہے ۔دن کے درمیانی حصہ دوپہر میں روشنی اپنے نقطہ عروج پر ہوتی ہے ۔اسی طرح اخلاق میں میانہ روی قابل تعریف ہوتی ہے۔افراط و تفریط دونوں پہلو مذموم۔بخل اور فضول خرچی کی درمیانی حالت کو سخاوت ،بذدلی اور طیش کے درمیان حال کو شجاعت کہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اس عظیم المرتبت خطاب سے سرفراز فرمایا ۔ان کے عقائد ،ان کی شریعت ،ان کے نظام اخلاق ،سیاست اور اقتصادمیں افراط و تفریط کا گزر نہیں ۔یہاں اعتدال ہے توازن ہے موزونیت ہے ۔جب مسلمانوں کو اپنے اس عظیم منصب کا پاس تھا اس وقت ان کا ہر قول اور ہر فعل آئینہ تھا اس ارشاد ربانی کا ۔لیکن آج تو ہم یوں بگڑ چکے کہ قرآن میں جس امت کے محاسن بیان کیے گئے ہیں ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ وہ ہم ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرماوے ۔آمین
(تفسیر ضیاء القرآن جلد اول صفحہ 101سنہ اشاعت 2015ضیاء القرآن پبلیشنز لاہور)
اعتدال کے کئی معانی ہیں ۔
۱۔اعتدال کا مطلب عدل و انصاف
آیت قرآنی میں اس امت کو جس صفت اعتدال سے متصف بتایا گیا ہے اور جس کے نتیجے میں اسے منصب شہادت پر فائز قرار دیا گیاہے ۔اس میں عدل و انصاف کا معنی بھی پنہاں ہیں ۔اس لئے کہ عدل شہادت کے لئے لازمی مطلوبہ صفت ہے ۔جو شخص عادل نہیں ہوگا ۔اس کی گواہی ناقابل قبول ہوگی۔عادل گواہ ہی لوگوں کے نزدیک مقبول ہوتا ہے ۔
اس آیت میں ”وسط”کی تفسیر ”عدل ”سے خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔
امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت میں ”وسط”کی تفسیر ”عدل”سے کی ہے ۔عدل،توسط اور توازن قریب المعنی الفاظ ہیں ۔
(بخاری احادیث الانبیاء ۳۳۳۹،مسند احمد ۱۱۲۷۱،ترمذی:تفسیر القرآن ۲۹۶۱،بروایت حضرت ابو سعید خدری)
اعتدال و میانہ روی کی تعلیم انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے ۔قرآن پاک میں بہت سی نصوص اس پر شاہد ہیں کہ ہمیں زندگی کے تمام امور میں اعتدال کا راستہ بتایا گیا ہے ۔
عبادات میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ۔
نماز میں اعتدال ،
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
قُلِ ادْعُواْ اللّہَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَنَ أَیّاً مَّا تَدْعُواْ فَلَہُ الأَسْمَاء الْحُسْنَی وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْْنَ ذَلِکَ سَبِیْلا(سورۃ الاسرا ۱۱۰)
ترجمہ:آپ فرمائیے یااللہ کہہ کر پکارو یا یارحمن کہہ کر پکارو جس نام سے اسے پکارو اس کے سارے نام(ہی)اچھے ہیں۔اور نہ تو بلند آواز سے نماز پڑھو اور نہی ہی بالکل آہستہ پڑھو اسے اور تلاش کرو ۔ان دونوں کے درمیان (معتدل)راستہ۔
چال اور آواز میں اعتدال
حضرت لقمان علیہ السلام کی قرآن مجید میں نصائح موجو ہیں ان میں ہے
وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ(سورۃ لقمان:۱۹)
ترجمہ:اوردرمیانہ روی اختیار کر اپنی رفتار میں اور دھیمی کر اپنی آواز بے شک سب سے وحشت انگیز آواز گدھے کی آواز ہے ۔
رفتار اور گفتار کے آداب سکھائے کہ چلو تو وقار و متانت کے ساتھ۔بات کرو تو بلا ضرورت آواز کو بلند نہ کرو کہ طبعِ سلیم پر گراں گزرے اور سننے والا وحشت محسوس کرنے لگے۔جس طرح گدھا زور سے ہینگتا ہے اور سارا ماحول ناگوار شور سے بھر جاتا ہے۔
(تفسیر ضیاء القرآن جلد 3صفحہ 602مطبوعہ2015ضیا القرآن پبلیکیشنر)
خرچ کرنے میں راہ اعتدال
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَۃً إِلَی عُنُقِکَ وَلاَ تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَّحْسُوراً۔ إِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن یَشَاءُ وَیَقْدِرُ إِنَّہُ کَانَ بِعِبَادِہِ خَبِیْراً بَصِیْراً(سورہ بنی اسرائیل ۲۹،۳۰)
ترجمہ:اور بنا لو اپنے ہاتھ کو بندھا ہوا اپنی گردن کے اردگرد اور نہ ہی اسے بالکل کشادہ کر دو ورنہ تم بیٹھ جاؤ گے ملامت کیے ہوئے درماندہ۔بے شک آپ کا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جسکے لیے چاہتا ہے)یقیناًوہ اپنے بندوں (کے حالات) سے خوب آگاہ ہے اور (انہیں) دیکھنے والا ہے۔
ایک اورجگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْْنَ ذَلِکَ قَوَاماً(الفرقان ۶۷)
ترجمہ:اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تونہ فضو ل خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی(بلکہ)ان کا خرچ کرنا اسراف اور بخل کے بین بین اعتدال سے ہوتا ہے ۔
اسی آیت کریمہ کے تحت تفسیر ضیاء القرآن میں ہے
”ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ نہ فضول خرچ ہیں،نہ بخیل بلکہ درمیانہ روی اور اعتدال کی راہ پر ہمیشہ گامزن رہتے ہیں۔اسراف کسے کہتے ہیں اور اقتار(بخل) کیا ہوتا ہے ؟ اس کی تشریح کرتے ہوئے علماء نے متعدد اقوال لکھے ہیں ۔لیکن نحاس کا پسندیدہ قول یہ ہے کہ جو روپیہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر خرچ کیا جائے وہ اسراف ہے ۔اور دولت کو اس کی اطاعت میں خرچ کرنے سے رک جانا بخل ہے ۔اور جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کیا وہی میانہ رو اور اعتدال پسند ہے ۔
قال النحاس ومن احسن ما قیل فی معناہ ان من انفق فی غیر طاعۃ اللہ فھو الاسراف ومن امسک عن طاعۃ اللہ عزوجل فھو الاقتارو من انفق فی طاعۃ اللہ فھو القوم(قرطبی)
(تفسیر ضیاء القرآن جلد 3،صفحہ 374،مطبوعہ 2015ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)
عبادات میں اعتدال کے بارے احادیث مبارکہ بھی وار دہوئی ہیں ۔
ایک حدیث پاک میں ہے کہ رات کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو زیادہ ٹھہرتے دیکھا تو ان کو اس سے منع کرکے فرمایا۔
”اکلفوامن الاعمال ما تطیقون”
ترجمہ اپنے آپ کو ان اعمال کا مکلف بناؤ جن کی تم طاقت رکھتے ہو ”
(الحنظلی،ابو عبدالرحمن عبداللہ بن المبارک :الزھد و الرقائق ،باب فضل ذکر اللہ عزوجل دارالکتب العلمیہ ۔بیروت)
اعتدال کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی بھی موجود ہے ۔
امااحسن القصدفی الغنی،واحسن القصد فی الفقر،و احسن القصد فی العبادۃ
”دولت مندی میں میانہ روی کتنی اچھی ہے۔ محتاجی میں میانہ روی کتنی اچھی ہے ۔عبادت میں میانہ روی کتنی اچھی ہے ۔
(مسند البزار ۷:349)
حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے یہ بھی فرمایا
”خیر الامور اوسطھا”(مصنف ابن ابی شیبہ ،7،179مکتبہ الرشد الریاض 1409ھ
انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی میں اعتدال
اعتدال انسانی انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں کا احاطہ کرتا ہے ۔
انفرادی زندگی میں انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے ۔اور اسکی ترقی کا خواہاں ہوتا ہے ۔اوراپنے ذاتی معاملات کو آزاد و مستقل دیکھنا چاہتا ہے ۔
اور اسی کے ساتھ ہم اسکی فطرت کے اندر اجتماعی رجحان بھی دیکھتے ہیں ۔ اسی لیے قید تنہائی انسان کیلئے سخت ترین سزا ہوتی ہے ۔خواہ اس سے اس قید میں کیسی ہی لذیز اشیائے خوردونوش کیوں نہ مہیا ہوں۔ اس لیے قدیم زمانہ سے حکماء کا کہنا ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے ۔اور جدید ماہرین سماجیات کہتے ہیں انسان ایک اجتماعیت پسند جانور ہے ۔
متعدل نظام وہ ہے جو انسانی زندگی کے ان دونوں پہلوؤں انفرادی او راجتماعی کا خیال رکھے ۔اور کسی ایک پہلو کو دوسرے پر غالب نہ آنے دے ۔
یہی وجہ ہے کہ دین فطرت اسلام ایک منصفانہ معتدل نظام لیکر آیا۔جو معاشرہ کی خاطر فرد کی اور فرد کی خاطر معاشرہ کی حق تلفی نہیں کرتا ۔
انسان کا ظاہر و باطن اور اعتدال
علامہ شبلی نعمانی نے اپنی کتاب ”الغزالی”میں امام غزالی ؒ کے افکار کو اعتدال کی وضاحت کے حوالے سے بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اعتدال کا تعلق انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔آپ لکھتے ہیں :
”خَلق اور خُلق قریب المعنی الفاظ ہیں جو اکثر ساتھ ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں فلاں شخص کا خَلق اور خُلق دونوں اچھے ہیں یعنی اس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور باطن بھی اچھا ہے”
انسان حقیقت میں دو چیزوں کانام ہے ۔جسم اور روح اور جس طرح جسم کی ایک خاص صورت اور شکل ہے روح کی بھی ہے پھر جس طرح جسم کی صورت اچھی اور بری ہوتی ہے روح کی بھی ہوتی ہے اور جس طرح ظاہری صورت کے لحاظ سے انسان خوبصورت یا بد صورت کہتے ہیں روحانی صورت کے لحاظ سے اس کو خوش اخلاق یا بد اخلاق کہا جاتا ہے خلق کی اقسام بہت ہیں لیکن اصلی ارکان جس سے تمام شاخیں نکلتی ہیں علم،غضب،شہوت۔انہی تینوں قوتوں کے اعتدال کا نام حسن خلق ہے ۔کسی شخص میں اگر یہ تینوں قوتیں معتدل ہوں تو وہ پورا خوش اخلاق ہو گا۔اگر صرف ایک یا دو ہوں تو وہ نا تمام ۔جس طرح کسی کے تمام اعضاء خوبصورت ہوں تو کامل الحسن ہوگا ورنہ ناقص۔
*علم کی قوت کے اعتدال کا نام حکمت ہے اور یہ تمام اخلاق حسنہ کی بیخ وبن ہے۔
*غضب کی قوت اگر افراط و تفریط سے بالکل بری ہو یعنی اس طرح کے عقل کے قابو میں ہو کہ وہ جس طرح بڑھائے بڑھے اور جہاں روکے رک جائے تو اس کو شجاعت کہتے ہیں ۔شجاعت مختلف مظہروں میں ظاہر ہوتی ہے اور ہر مظہر کا نام جدا ہے مثلاً خودداری ،دلیری،حلم،استقلال،ثبات،وقار اور یہ قوت غضب جب اعتدال سے ہٹ کر افراط کی طرف مائل ہوتی ہے تو تہور بن جاتی ہے اور اس سے سلسلہ بہ سلسلہ غرور ،نفرت،اخود پرستی ،خودبینی وغیرہ پیدا ہوتی ہے جب تفریط کی طرف جھکتی ہے تو ذلت پسندی،کم حوصلگی ،بے طاقتی دنائت کے قالب ظہور کرتی ہے ۔
*شہوت کی قوت میں جب کامل اعتدال ہوتا ہے تو اس کو عفت کہتے ہیں ۔یہی صفت مختلف سانچوں میں ڈھل کر مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے یعنی جود،حیاء ،درگزر ،قناعت ،پرہیز گاری،خوش مزاجی، بے طمعی۔اور یہ صفت جب افراط و تفریط کی طرف مائل ہوتی ہے تو اس سے حرص ،طمع،بے شرمی،فضول خرچی،ریا ،تملق،حسد اور شک وغیرہ اوصاف ذمیمہ پیدا ہوتے ہیں ۔
عقل کی قوت معتدل رہتی ہے تو حسن تدبیر ،جودت ذہن،اصابت رائے پیدا ہوتا ہے ۔جب اس میں افراط آتا ہے تو مکر ،فریب ،حیلہ سازی،عیاری وغیرہ پیدا ہوتے ہیں تفریط ہوتی ہے تو حماقت ،سادہ پن نافہمی،نا عاقبت اندیشی کی صورت میں ظہور کرتی ہے ۔
(الغزالی ،شبلی نعمانی،علمی کتب خانہ لاہور)
آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے مسلمانوں کو دیگر اقوام عالم سے اپنے معاملات اور تعلقات کی بنیاد بھی اعتدال پر رکھنا ہو گی محراب و منبر اور فتاویٰ و تدریس میں بھی فکر و منہج اعتدال کی پیروی ضروری ہے ۔
روحانی و مادی ربانی و انسانی ،عقل و قلب ،دنیا و آخرت ،حقوق اللہ حق نفس ،حقوق العباد ،مادی و اقتصادی ترقی اور روحانی و اخلاقی ترقی کی بنیاد اعتدال پر رکھنا ہو گی ۔اس انداز میں ایک پہلو دوسرے پہلو کو نقصان نہ پہنچائے ۔
اسی لئے بہترین دعا کی تلقین کی گئی ہے
اھدنا الصراط ا لمستقیم
اور دعا ہے کہ صراط مستقیم جو راہ اعتدال ہے ۔اللہ کریم ہم سب کو نصیب فرمائے ۔آمین ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.