تراویح کی فضیلت و اہمیت و مسائل

محمد جاوید اقبال کھارا

تراویح کی فضیلت و اہمیت و مسائل
محمد جاوید اقبال کھارا
لفظ تراویح
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وَالتَّرَاوِیحُ جَمْعُ تَرْوِیحَۃٍ وَہِیَ الْمَرَّۃُ الْوَاحِدَ ۃُ مِنَ الرَّاحَۃِ کَتَسْلِیْمَۃِ مِنَ السَّلَامِ(فتح الباری شرح صحیح البخاری ج4ص317)
ترجمہ: تراویح”ترویحہ“کی جمع ہے اور ترویحہ ایک دفعہ آرام کرنے کوکہتے ہیں، جیسے ”تسلیمہ“ ایک دفعہ سلام کرنے کو کہتے ہیں۔
تراویح کسے کہتے ہیں؟
”ترویحہ“ وہ نشست ہے جس میں کچھ راحت لی جائے۔ چونکہ تراویح کی چاررکعتوں پر سلام پھیرنے کے بعد کچھ دیر راحت لی جاتی ہے،اس لیے تراویح کی چار رکعت کو ایک ”ترویحہ“ کہاجانے لگا اورچونکہ پوری تراویح میں پانچ ترویحے ہیں، اس لیے پانچوں کامجموعہ ”تراویح“کہلاتاہے۔
علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سُمِّیَتِ الصَّلٰوۃُ فِی الْجَمَاعَۃِ فِی لَیَالِی رَمَضَانَ التَّرَاوِیْحَ؛ لِاَنَّھُمْ اَول مااجتمعواعلیھا کانوایستریحون بین کل تسلیمتین۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری)
ترجمہ: جونماز رمضان کی راتوں میں باجماعت اداکی جاتی ہے اس کانام ”تراویح“ رکھاگیاہے، اس لیے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پہلی بار اس نماز پرمجتمع ہوئے تووہ ہر دوسلام (چاررکعتوں)کے بعدآرام کیاکرتے تھے۔
تراویح سنت مؤکدہ ہے
حضورعلیہ السلام نے قیام رمضان کوسنت قرار دیا ہے۔آپ علیہ السلام کے بعدحضرات خلفاء راشدین اوردیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر مواظبت فرمائی اور یہی مواظبت دلیل ہے کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے۔حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ حضورعلیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الْمَہْدِیِّینَ الرَّاشِدِینَ تَمَسَّکُوا بِہَا وَعَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ۔
(سنن ابی داؤد)
ترجمہ: تم میری سنت کواورہدایت یافتہ خلفاء راشدین (رضی اللہ عنہم) کی سنت کو اپنے اوپرلازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔
اس حدیث مبارک میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنت پر لفظ ”علیکم“(تم پر لازم ہے) اور عضواعلیھابالنواجذ (مضبوطی سے تھام لو) سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی اسی طرح حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی جوکہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کی دلیل ہے۔
نماز تراویح کی حکمت
نماز تراویح میں بہت بڑی حکمت کار فرما ہے۔اگر دیگر ادیان کے لوگ اس سے آگاہ ہو جائیں تو اس دین کی تعریف میں رطب اللسان ہو جائیں اور اس کی بلند تعلیمات دیکھ کر حیران رہ جائیں۔روزہ دار سارا دن غرب آفتاب تک کھانے،پینے اور دیگر مضطرات سے رکا رہتا ہے۔جب روزہ کھولنے کا وقت آتا ہے تو وہ ساری لذیذ اور مزے دار اشیاء کھانے لگتا ہے،جن سے اس سے قبل اسے روک دیا گیا تھا جب وہ کھانا کھا لیتا ہے تو اس کے جسم میں کمزوری اور ناتوانی آجاتی ہے۔وہ حرکت بھی نہیں کرسکتا،اکثر روزہ داروں میں یہ معاملہ دیکھا جا سکتا ہے۔وہ نماز عشاء تک اسی حالت پر رہتا ہے اس کے بعد وہ نماز تراویح پڑھتا ہے،وہ اس میں رکوع،سجود،قیام اور قعود بھی کرتا ہے۔
جب وہ اس نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی ساری سستی اور کمزور ختم ہو گئی ہوتی ہے،اس لیے شارع حکیم نے نماز تراویح کو سنت قرار دیا۔
تراویح کے متفرق مسائل
1۔تراویح،مرد و عورت پر بالاجماع سنت موکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔بہار شریعت،درمختار
2۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی احادیث سے ثابت ہے۔بہار شریعت
3۔اس کا وقت فرض عشاء سے طلوع فجر تک ہے وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی اگر کچھ رکعتیں اس کی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے۔بہار شریعت
4۔تراویح میں جماعت کفایہ ہے کہ اگر مسجد کے سب لوگ چھوڑ دیں گے تو سب گنہگار ہونگے اور اگر کسی ایک گھر میں تنہا پڑھ لی تو گنہگار نہیں مگر جو شخص مقتدا ہو کہ اس کے ہونے سے جماعت بڑی ہوتی ہے اور چھوڑ دے گا تو لوگ کم ہو جائیں گے اس سے بلا عذر جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔بہار شریعت
5۔تراویح میں ایک بار ختم قرآن کرنا چاہیے دو مرتبہ فضیلت اور تین مرتبہ افضل،لوگوں کی سستی کی وجہ سے ختم کو ترک نہ کریں۔فتاویٰ رضویہ
6۔صحیح یہ ہے کہ بعد ختم کلام مبارک بھی تمام لیالی شہر مبارک میں بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت موکدہ ہے۔فتاویٰ رضویہ
7۔(ختم تراویح میں) ایک بار بسم اللہ جہر(اونچی آواز) سے پڑھنا سنت ہے اور ہر سورۃ کی ابتداء میں آہستہ پڑھنا مستحب ہے اور یہ جو آج کل بعض جہال نے نکالا ہے کہ 114بار بسم اللہ جہری پڑھی جائے ورنہ ختم نہ ہوگا۔مذہب حنفی میں بے اصل ہے بہار شریعت
8۔متاخرین نے ختم تراویح میں تین بار قل ھو اللہ پڑھنا مستحب کہا بہتر یہ ہے کہ ختم کے دن پچھلی رکعت (آخری)میں الم سے مفلحون تک پڑھے۔بہار شریعت
9۔اگر کسی کی وجہ سے نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن پاک ان رکعتوں میں پڑھا ان کا اعادہ کر لیں۔تاکہ ختم قرآن میں نقصان نہ رہے۔بہار شریعت
10۔دو رکعت بیٹھنا بھول گیا تو جب تک تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور سجدہ کر لیا تو چار پوری کر لے مگر یہ دو شمار کی جائیں گی۔اور جو دو پر بیٹھ چکا تو چارہوئیں۔بہار شریعت
11۔قعدہ نہ کرنے کی صورت اگر چار رکعتیں پڑھ لیں تو آخری دو ہونگیں اور پہلی دو والی قرات دہرائے گا۔احسن الفتاویٰ
12۔افضل یہ ہے کہ تمام شفعو میں قرات برابر ہو اور اگر ایسا نہ کیا تب بھی حرج نہیں۔یونہی ہر شفع کی پہلی رکعت اور دوسری رکعت کی قرات مساوی ہو دوسری قرات پہلے سے زیادہ نہ ہونی چاہیے۔بہار شریعت
13۔قرات اور ارکان کی ادائیگی میں جلدی کرنا مکروہ ہے اور جتنی ترتیل (جس قدر حروف کی اچھی طرح ادا کرے)زیادہ بہتر ہے یونہی تعوذ تسمیہ طمانیت و تسبیح چھوڑ دینا بھی مکروہ ہے۔بہار شریعت،در مختار
14۔تراویح مسجد میں با جماعت پڑھنا افضل ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھی تو وہ ثواب نہ ملے گا جو مسجد میں پڑھنے کا تھا۔
15۔اگر (تراویح)فوت ہو جائیں تو ان کی قضا نہیں ہے۔اگر قضا تنہا پڑھا لی تو تراویح نہیں بلکہ نفل مستحب ہیں اور جیسے مغرب و عشاء کی سنتیں ہیں۔بہار شریعت،عالمگیری
16۔خوش خوان کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ درست خوان کو بنائیں۔بہار شریعت،عالمگیری
17۔رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ اسی امام کے پیچھے جس کے پیچھے عشاء و تراویح پڑھی یا دوسرے کے پیچھے۔
18۔یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشاء اور وتر پڑھائے اور دوسرا تراویح جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓ امام فرماتے اور ابی ابن کعب ؓ تراویح پڑھاتے۔بہار شریعت،عالمگیری
19۔اگر سب لوگوں نے عشاء کی نماز ترک کر دی تو تراویح بھی جماعت سے نہ پڑھیں۔ہاں عشاء جماعت سے ہوئی اور بعض نے جماعت سے نہ پڑھی یہ جماعت تراویح شریک ہو ں۔بہار شریعت،عالمگیری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.