صاحب للواء ابو الفضل قمر بنی ہاشم حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ

محمد جاوید اقبال کھارا

پیکروفا،قمر بنی ہاشم،ابو الفضل حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابن حضر ت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت با سعادت 4شعبان المعظم 26ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
آپ کی والد ماجدہ حضرت ام البنین فاطمہ بنت خزام بن خالد بن ربیعہ بن عامر الکلابی تھیں۔یہ وہ ام البنین تھیں جن کا خاندان عرب میں جرات و بہادری میں معروف تھا یوں شجاعت و بہادری باپ اور ماں دونوں طرف سے آپ کو ورثہ میں ملی (حیات الخفی جلد 2صفحہ 309)
کنیت و القاب:۔
حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ”ابو الفضل ”اور” ابوالقرابہ” یہ دو کنیتیں بڑی مشہور ہیں ۔
حضرت عباس کے فضائل کی کثرت کی وجہ سے انہیں ابو الفضل کہا جاتا تھا (عمدۃ الطالب صفحہ 280)
ابوالقرابۃ قربہ کا معنی پانی کی مشک ہے (دہخدا ،لغت نامہ 1377ش ،جلد11صفحہ1749)
اسی لیے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ واقعہ کربلا میں چند مرتبہ پانی لانے کی وجہ سے آپ کو اس کنیت سے پکارا جاتا ہے
(بلاذری،انساب الاشراف،1394ق،ج2،صفحہ 191،طبرسی ،اعلام لوری باعلام الھدیٰ 1390،صفحہ 203)
آپ کے القابات بھی بہت مشور و معروف ہیں ۔
آپ کو قمر بنی ہاشم بھی کہا جاتا ہے اور علمدار بھی،سقائے اہلبیت بھی کہا جاتا ہے علاوہ ازیں باب الحوائج الشہید،العبدالصالح ،صاحب اللواء بھی القابات جلیلہ آپ کے ہیں ۔(حیات الخفی جلد 2صفحہ 310،شہادت نواسۂ سید الابرار و مناقب آل نبی المختار صفحہ 801)
شمائل و فضائل :۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ حسین پیکر تھے کشیدہ اقامت ،متناسب اعضاء کے نہایت و جیہہ نوجوان تھے تمام ارباب سیر نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ
”ان العباس کان و سیما جسیما جمیلا یر کب الفرس المظھم ورجلاہ یخطان علی الارض ویقال لہ قمر بنی ہاشم ”
حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت حسین و جمیل اور جسیم و وسیم تھے دورکابہ گھوڑے پر سوار ہوتے تھے تو پھر پائے مبارک زمین پر خط دیتے تھے ان کو خداداد حسن و جمال کی وجہ سے قمر بنی ہاشم کہا جاتا ہے (حیات الخفی جلد 2صفحہ 310،طعمہ،تاریخ مرقد الحسین و العباس)
آپ کی خصوصیات میں سے شجاعت و وفا وہ خصوصیات ہیں جسکی اپنوں اور بیگانوں سبھی نے تعریف کی ہے آپ اعمال و کمال کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور اخلاق و فضائل کی اعلیٰ صفات سے متصف تھے ۔
حضرت عباس علمدار کی فقہیانہ شان کاایک عجیب و غریب واقعہ :۔
حضرت سید نا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس حضرت سیدہ زینت سلام اللہ علیھا تشریف فرما تھیں آپ اپنے بیٹے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرما رہے تھے ”قل واحد”کہو ایک حضرت عباس بولے ”واحد”پھر آپ نے فرمایا ‘قل اثنان ‘کہو دو حضرت عباس خاموش رہے آپ نے فرمایا بیٹا دو کہو کیوں نہیں کہتے کہو دو حضرت عباس نے عرض کیا ابا جان
”استحی ان اقول باللسان الذی قلت واحد اثنان”
جب زبان سے ایک مرتبہ ایک کہہ دیا ہے اب اس سے دو کہتے ہوئے حیا دامن گیر ہوتی ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جواب سن کر متاثر ہوئے کیونکہ اس جواب میں وہ فقیہانہ راز تھے جو عام نہیں سمجھ سکتے تھے حضرت عباس اہلبیت میں فقہیہ کے نام سے بھی مشہور تھے ان العباس من اکابر الفقہاء و افاضل اہل بیتحضرت عباس اکابر فقہاء و فضلاء اہل بیت تھے(الحیات الخفی جلد 2صفحہ310)
واقعہ کربلا حضرت عباس علمدار:۔
کسی بھی شخصیت کے مقام و مرتبہ کا صحیح انداز مشکلات و مصائب اس کی ثابت قدمی اور ہمت و حوصلے کو دیکھ کر ہو تا ہے اگرچہ واقعہ کربلاسے قبل آپ کی زندگی مبارک کے بارے میں مورخین کے ہاں ذکر کم ملتا ہے مگر اس ایک واقعہ سے آپ کی پوری زندگی کا نقشہ سامنے آجاتا ہے جسمیں آپ کی جو تربیت حضرت مولا علیٰ کرم اللہ وجھہ الکریم نے پھر آپ کے بعد جناب سیدنا امام حسن مجتبیٰ اور حضرت امام عالی مقام نے فرمائی اس کا پتہ چلتا ہے ۔
واقعہ کربلا میں حضرت عباسؓ نے اپنی انہی خصائل کے مطابق حضرت امام عالی مقام کا جو ساتھ دیا اور جس طرح آپ پر پروانہ وار نثار ہوئے ان جلیل القدرخدمات کا تذکرہ بیان سے باہر ہے ۔
شب عاشورہ حضرت امام عالی مقام کے خطبہ میں آپ نے سب سے پہلے یہ کہا تھا ۔
”لا ارنا اللہ ذلک الیوم ابدا”
اللہ ہم کو وہ دن نہ دکھائے جب ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر چلے جائیں (شہادت نواسہ سید الابرار و مناقب آل نبی المختار از حضرت عبدالسلام قادری رضوی،صفحہ 802)
حضرت امام حسین نے حضرت عباس کے بارے میں ”میری جان آپ پر فدا میرے بھائی کا جملہ آپ کے بارے میں کہا(شبیر و یزید پروفیسر حبیب اللہ چشتی ،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور صفحہ 147)(مفید الارشاد جلد دوم صفحہ 90)
یوم عاشورہ کو فرات سے اہل بیت عظام کیلئے پانی لینے پہنچے تو فرات پر فوج کا پہرہ تھا علی حیدر کرار کا یہ شیر مارتے کاٹتے دشمنوں کی صفوں کو چیرتے آگے بڑھا اور پانی کا مشکیزہ بھرنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر بزدل یزیدی فوج آپ پر ٹوٹ پڑی مگر مشکیزہ کا خیمہ حسینی تک پہنچنا اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھا ظالموں نے چاروں طرف سے گھیر کر آپ پر حملہ کیا آپ لاچار ہو کر فرش زمین پر تشریف لائے جب گرے تو امام الشہداء ابن رسول اللہ کو آواز دی یا ابا عبداللہ علیک السلام منی
اے ابو عبداللہ الحسین میری طرف سے آخری سلام ہو آپ کی اس آواز کو سن کر حضرت امام الشہدادوڑتے ہوئے آپ کے قریب پہنچے تو دیکھا پیکر و فا لخت جگر علی المرتضیٰ اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں تو امام عالی مقام رو پڑے اور آپ کی لاش اقدس کے ساتھ چمٹ کر فرمایا
الآن انکسر ظھری و قلت حیلتی
اے عباس اب میری کمر ٹوٹ گئی ہے اور رشتہ تدبیر و قوت کمزور ہو چکا ہے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
چنانچہ فبکیٰ الحسین لقتلہ العباس بکاء شدیدا(حیات الخفی جلد 2صفحہ 314،ابو الفضل عباس 4،1386ش صفحہ 113)(شہادت نواسہ سید الابرار و مناقب آل نبی المختار صفحہ 808)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.