جسٹس (ر) ناصر الملک نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

ناصر الملک نے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔

نگراں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں جاری ہے جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک ہیں جب کہ صدر ممنون حسین ان سے حلف لے رہے ہیں۔

تقریب میں سابق کابینہ  وقومی اسمبلی ارکان، سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان، ججز اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہیں۔

سابق چیف جسٹس ناصرالملک وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کےبعد اپنی کابینہ کی تشکیل کا کام مکمل کریں گے۔

جسٹس (ر) ناصر المک کون ہیں؟

نگراں وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹس (ر) ناصرالملک پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ 6 جولائی 2014 سے 16 اگست 2015 تک اس منصب پر فائز رہے۔

جسٹس (ر) ناصرالملک 17 اگست 1950 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئے، ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔

1977 میں لندن سے بار ایٹ لاء کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981 میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991 اور 1993 میں صدر منتخب ہوئے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک 4 جون 1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31 مئی 2004 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور پھر 5 اپریل 2005 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3 نومبر 2007 کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3 نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔

جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.