ایوان صدر میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم ہینڈز کے باہمی تعاون سے ”اسلامک ورلڈ آرفن ڈے“ منایا گیا

مہمان خصوصی صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان عارف علوی تھے

اسلام آباد: ایوان صدر میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم ہینڈز کے باہمی تعاون سے ”اسلامک ورلڈ آرفن ڈے“ منایا گیا۔جس کے مہمان خصوصی صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان عارف علوی تھے۔ جبکہ دیگر مہمانان میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر پیر محمد نور الحق قادری، چیئرمین مسلم ہینڈز انٹرنیشنل صاحبزادہ سید لخت حسنین، مختلف ممالک کے سفراء و اراکین پارلیمنٹ شامل تھے۔
صدر مملکت کا اس موقع پر اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پندرہ رمضان المبارک عالم اسلام میں یوم یتامیٰ کے طور پر منایا جاتا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ اس حوالے سے منعقدہ تقریب اور یتیم بچوں کی میزبانی کا شرف مجھے حاصل ہوا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اور اسلامی معاشرے میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی پرورش اور خبر گیری بہت بڑی نیکی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشرتی طور پر اس فرض کی ادائیگی کیلئے بے پناہ ایثار و قربانی کا جذبہ موجود ہے اور یہ بات خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی قائم کردہ تنظیم مسلم ہینڈز انٹرنیشنل دنیا بھر میں سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہے بالخصوص پاکستان میں چالیس ہزار کے لگ بھگ یتیم اور غریب بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ذمہ داری نبھانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ مسلم ہینڈز کے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں نے جس مہارت اور خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیاہے، اس سے اس ادارے کی تربیت کے معیار کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ میں ان خدمات پر مسلم ہینڈز کی تنظیم، اس کے اساتذہ اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ خیر اور بھلائی کا سفر مزید تیز ہوگا۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر پیر محمد نور الحق قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد 42 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ دہشتگردی اور قدرتی آفات اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم جس کے ممبر ممالک کی تعداد 57 ہے، اس نے پہلی بار 2014 میں 15 رمضان المبارک ہو اسلامی آرفن ڈے منایا۔ جس کا مقصد یتیم بچوں کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت ریاست مدینہ کو اپنا ماڈل بناکر اس سمت میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے اور وہ دن دور نہیں جب ریاست مدینہ کے ماڈل پر ریاست پاکستان ہر یتیم بچے کیلئے ماں بن جائے گی اور ان کی اسی طرح کفالت کی ذمہ داری اٹھائے گی جس طرح ان کے ماں باپ اٹھاتے ہیں۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کے شاہد ہیں کہ مسلم ہینڈ زکے پاکستان میں موجود اعلی ترین تعلیمی اداروں میں ہزاروں یتیم اور غریب بچے زیر تعلیم ہیں اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہیں مسلم ہینڈز نے نرسری کلاس میں اپنایا اور آج الحمدللہ وہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگرعلوم میں ماسٹر لیول تک پہنچ چکے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بہت سے مخیر حضرات اس کار خیر میں شریک ہیں۔وزارت مذہبی امور کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کوئی ایسا میکنیزم بنائے جس کی بنا پر نجی شعبے کے اشتراک سے پاکستان میں جدید ترین آر فن سکولزاور یونیورسٹی بنائی جا سکے جہاں پاکستان کے 42لاکھ یتیم بچوں کو تمام سہولیات مفت میسر ہوں۔ تاکہ انھیں قومی دھارے میں شریک بنایا جاسکے۔مسلم ہینڈز کے چیئرمین صاحبزادہ سید لخت حسنین نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اور یہ خوبصورت تقریب میری زندگی کا ناقابل فراموش لمحہ ہے کیونکہ آج ریاست پاکستان کے سب سے بڑے گھر میں اس ملک کے وہ یتیم بچے موجود ہیں جن کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا ہے، ان کو مملکت پاکستان کے صدر نے دعوت دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اسلامی ریاست اپنے عوام اور بالخصوص محروم طبقوں سے بے خبر ہے اور نہ ہی ان کی ذمہ داری سے ناآشنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ریاست کے ہر ادارے کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ یتیموں، بیواؤں اور محروم طبقات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ یہ چند بچے ان لاکھوں یتیم بچوں کی نمائندگی کررہے ہیں جو پاکستان سمیت دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں مسلم ہینڈز کے اداروں میں تعلیم و تربیت کے ساتھ پرورش پا رہے ہیں۔ مسلم ہینڈز برطانیہ میں رجسٹرڈ بڑی مسلم چیریٹی ہے جو تعلیم، قدرتی آفات سے بحالی اور پسماندہ طبقات کی ضروریات زندگی پورا کرنے کی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ صرف پاکستان اور آزاد کشمیر کے 66 اضلاع میں مسلم ہینڈزکے اپنے 300 تعلیمی ادارے قائم ہیں جو صرف تعلیم تک محدود نہیں بلکہ سماجی خدمت کے تمام شعبوں میں خدمت کے مراکزہیں۔ ان میں زیر تعلیم طلباء میں 80فیصد یتیم اور غریب و نادار طلباء ہیں جن کو تعلیم اور تعلیمی ضروریات مہیا کی جاتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.