روادار اور مستحکم پاکستان ہی عالم اسلام کی قیادت کر سکتاہے۔ ملی یکجہتی کے لیے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں۔ پیر محمد امین الحسنات شاہ

دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف احتجاج ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ راجہ ظفر الحق کھربوں ڈالر اور ستر ہزار جانوں کا نذرانہ دے کر بھی ہم دنیا سےاپنا بیانیہ نہیں منوا سکے۔ نیا قومی بیانہ تشکیل دیا جائے۔ جنرل امجد شعیب سی پیک منصوبہ پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کا ضامن ہے لیکن اس کا انحصار ایک روادار اور پُرامن پاکستان پر ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز

اسلام آباد (نمائندہ zنیوز) سابق وزیرمملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور سدا سلامت پاکستان فورم کے چیئرمین پیرمحمد امین الحسنات شاہ سجادہ نشین بھیرہ شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اسلام رواداری اور اخوت و محبت کا دین ہے۔ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے قومی وملّی رواداری وقت کااہم تقاضا ہے۔ قوموں کی صف میں باوقار مقام حاصل کرنے کے لیے ملک کا معاشی طور پر مستحکم ہونا ضروری ہے۔ رواداری  اور امن و امان کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سداسلامت پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں یہ اصول عطا فرمایا ہے کہ مدد مظلوم کے لیے ہے۔ یہ قیامت تک کے انسانوں کی فلاح و سلامتی کا ضامن اصول ہے۔ اگر ہم اس اصول پر کاربند ہوجائیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مظلوم کی مدداورعدل و انصاف کی فوری فراہمی سے معاشرے آگے بڑھتے ہیں اور معاشرتی اکائیوں میں رواداری کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مذہبی رواداری  کے ساتھ ساتھ سیاسی رواداری کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی قائدین کو باوقار اور باہمی عزت و احترام پر مبنی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ گالم گلوچ کے رجحان نے ملکی فضا کو مکدر کر دیا ہے اور نئی نسل کی اخلاقیات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

پیر صاحب نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقع پر حاضرین نے ان حملوں کے نتیجے میں  شہید ہونے والے مسلمانوں  کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ پیر صاحب نے کہا کہ سانحہ نیوزی لینڈکے بعد وہاں کی حکومت اورعوام نے مظلوموں کی حمایت کاجوبے مثال مظاہرہ کیاہے اس نے رواداری کی وسیع البنیاد عالمی کلچر کے فروغ کی اساس فراہم کی ہے۔ پاکستان میں رواداری کے فروغ کے لیے سانحہ نیوزی لینڈسے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر  سیمینار کے مقررین کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام ، وہاں کی حکومت اور ریاستی اداروں کے رویے کی تحسین کی گئی۔

سیمینار کے مہمان خصوصی سینیٹرراجہ ظفر الحق چیئرمین مسلم لیگ ن نے کہاکہ دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت اور ظالم کے خلاف احتجاج ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ امریکہ نے گولان کے علاقے پر ناجائز اسرائیلی قبضے کی حمایت کر کے مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر پائے جانے والے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔  اس وقت عالمی سطح پرمسلمانوں کی منظم کردارکشی کی جارہی ہے اورہربرافعل اسلام اورمسلمانوں کی طر ف منسوب کیاجارہاہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات پرصحیح معنوں میں عمل کریں اوراسلام کاروشن پہلودنیاکے سامنے پیش کریں ۔ا نہوں نے گولان پراسرائیل کے غاصبانہ قبضے کوامریکہ کی طرف سے جائز قراردینے کی بھرپور مذمت کی اورمظلوموں کاساتھ دینے اور ظلم کے خلاف آواز بلندکرنے پرزوردیا۔ انہوں نے کہا کہ روادار پاکستان ہی ہماری امیدوں کا مرکز ہے اور ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم نئی نسل کے لیے اس ملک کو ایک ایسی جائے پناہ بنائیں جہاں وہ اسلام کے سائے میں رواداری اور امن سے زندگی بسر کر سکیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر ڈاکٹرقبلہ ایاز نے کہاکہ سی پیک  منصوبہ پاکستان کے روشن مستقبل اور  ترقی کا ضامن ہے لیکن اس کا انحصار ایک روادار اور پُرامن پاکستان پر ہے۔  اس کے لیے ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم پاکستان جیسے تحفہ خداوندی کی قدر کریں اور باہم رواداری کو فروغ دے کر ایک پرامن معاشرے کی تشکیل عمل میں لائیں۔انہوں نے قرارداد مقاصد ،1973ء کے آئین اور پیغام پاکستان اعلامیے کو قومی سطح پر نصاب کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ انہوں نےکہا آج وقت ہے کہ ہم متحد ہوکرہم آہنگ اورروادارمعاشرہ تشکیل دیں اورملک کامستقبل تابناک بنائیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ دورِ حکومت میں سرکاری سطح پر ملک کے تمام مسالک کے ایک ہزار جید علماء کرام کے دستخطوں سے ایک مشترکہ فتویٰ جاری کیا گیا تھا جس میں دہشت گردی اور خارجی فکر حرام قرار دیا گیا تھا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر)امجدشعیب نے کہاکہ رواداری اورقومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قومی سطح پرایک مربوط اور جدید بیانیے کی تشکیل وقت کی اہم  ضرورت ہے۔ کھربوں ڈالر اور ستر ہزار جانوں کا نذرانہ دے کر بھی ہم دنیا سے اپنا بیانیہ نہیں منوا سکے۔اس لیے  نیا متفقہ قومی بیانہ تشکیل دیا جائے۔دنیا آج بھی ہمارے دشمن کی بات سنتی ہے، اس کا بیانیہ مانتی ہے اور ہمیں دہشت گردوں کا حامی سمجھتی ہے۔ انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کے  پیغام پاکستان اعلامیے کونصاب میں شامل کیاجائے اورمیڈیاپربھرپور تشہیرکی جائےاورساتھ ہی مدارس اورتعلیمی اداروں سے اس کاابلاغ کیاجائے۔

اس موقع پر مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہبی طبقے تو رواداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن ریاست ایسے عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے جو ملک کی اسلامی بنیادوں کو ملیامیٹ کرناچاہتے ہیں۔ عورت آزادی مارچ کےنام پر ملک کی اسلامی بنیادوں پر جس انداز میں حملہ کیا گیا اور بعض ریاستی عناصر کی طرف سے جس طرح پشت پناہی کی گئی وہ قابل افسوس ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ کونسل کے رہنما علامہ امین شہیدی نے بھی ریاستی سطح پر ناانصافی کی شکایت کی اور نفرت کا کاروبار کرنے والوں اور ریاست کی اسلامی اساس پر حملے کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان جیسے لوگوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

تحریک انصاف کے رہنمارمیش کمار نے اس موقع پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے  بین المذاہب ہم آہنگی کمیشن تشکیل دینے غیرمسلموں کے قبول اسلام پرپیداہونے والے تنازعات کی بیخ کنی کے لیے مربوط لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

فورم سے سید حامدسعید کاظمی،پیرنقیب الرحمٰن، علامہ عارف واحدی،پیر سید زاہد صدیق شاہ، پیر سید آل حبیب سجادہ نشین اجمیر شریف، سید ضیاء النور شاہ، پروفیسر ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی،علامہ غلام محمدسیالوی،مولانا  ،پیرمحمدممتاز احمدضیاء، صاحبزادہ غلام فاروق بہاؤ الحق ضیاء، علامہ احسان صدیقی،علامہ ساجد چشتی ،علامہ رانا عبدالرحیم شوکت، ملک احمد خان ٹوانہ، مولانا محمد ریاض گوندل اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصّوں اور مختلف معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والے زعما نے بھی  کثیر تعداد میں سیمینار میں شرکت کی ۔ مقررین نے ایسے سیمنیار کے انعقادکو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔  سیمینار کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.